ترجمہ اصل
1 سُون تُزُو نے کہا: جنگ ریاست کا سب سے بڑا معاملہ ہے — موت اور زیست کی سرزمین، بقا اور فنا کی راہ۔ سو اِس کا جائزہ لینا ناگزیر ہے۔
孫子曰:兵者,國之大事,死生之地,存亡之道,不可不察也。
پس اِسے پانچ عناصر پر پرکھو، حساب سے اِس کا موازنہ کرو، اور معاملے کی حقیقت تلاش کرو: پہلا، طریقت؛ دوسرا، آسمان؛ تیسرا، زمین؛ چوتھا، سردار؛ پانچواں، ضابطہ۔
故經之以五事,校之以計,而索其情:一曰道,二曰天,三曰地,四曰將,五曰法。
طریقت وہ ہے جو عوام کو حاکم سے ہمرائے کر دے، یہاں تک کہ وہ اُس کے ساتھ مریں اور اُس کے ساتھ جئیں اور خطرے سے نہ ڈریں۔ آسمان تاریکی اور روشنی ہے، سردی اور گرمی، اور موسموں کا نظام۔ زمین دوری اور نزدیکی ہے، دشوار اور آسان، کشادہ اور تنگ، موت اور زیست۔ سردار دانائی ہے، اور اعتماد، اور رحم، اور دلیری، اور سختی۔ ضابطہ فوج کی تنظیم ہے، اور عہدوں کا سلسلہ، اور اخراجات کا انتظام۔ اِن پانچوں کو ہر سردار نے سنا ہے؛ جو اِنہیں جانتا ہے وہ فتح پاتا ہے، اور جو نہیں جانتا وہ فتح نہیں پاتا۔
道者,令民與上同意,可與之死,可與之生,而不畏危也;天者,陰陽、寒暑、時制也;地者,遠近、險易、廣狹、死生也;將者,智、信、仁、勇、嚴也;法者,曲制、官道、主用也。凡此五者,將莫不聞,知之者勝,不知者不勝。
پس حساب سے موازنہ کرو اور معاملے کی حقیقت تلاش کرو، اور پوچھو: کس حاکم کے پاس طریقت ہے؟ کون سا سردار زیادہ اہل ہے؟ آسمان اور زمین کس کے ساتھ ہیں؟ کس کا حکم اور قانون نافذ ہے؟ کس کی فوج زیادہ طاقتور ہے؟ کس کے سپاہی زیادہ مشقیافتہ ہیں؟ کس کا انعام اور سزا زیادہ واضح ہے؟ اِنہی سے میں جان لیتا ہوں کہ فتح کس کی ہو گی اور شکست کس کی۔
故校之以計,而索其情,曰:主孰有道?將孰有能?天地孰得?法令孰行?兵眾孰強?士卒孰練?賞罰孰明?吾以此知勝負矣。
جو سردار میرے حساب کو سنے، اُسے کام میں لاؤ تو ضرور فتح پائے گا: اُسے روکے رکھو۔ اور جو سردار میرے حساب کو نہ سنے، اُسے کام میں لاؤ تو ضرور شکست کھائے گا: اُسے رخصت کر دو۔
將聽吾計,用之必勝,留之;將不聽吾計,用之必敗,去之。
جب فائدہ تول لیا اور حساب پر کان دھر لیا، تب اُس سے ایک تدبیری برتری بناؤ تاکہ میدان سے باہر تمہاری مدد کرے۔ تدبیری برتری یہ ہے کہ فائدے کی بنیاد پر معاملے کی باگ اپنے ہاتھ میں لو۔
計利以聽,乃為之勢,以佐其外。勢者,因利而制權也。
جنگ فریب کی راہ ہے۔ سو جب اہل ہو، خود کو نااہل ظاہر کرو؛ جب سرگرم ہو، خود کو غیرسرگرم ظاہر کرو؛ جب نزدیک ہو، دور ظاہر کرو؛ جب دور ہو، نزدیک ظاہر کرو۔ دشمن کو فائدے سے لبھاؤ، اُس کی بدنظمی میں اُسے دبوچ لو، جب وہ بھرا اور مضبوط ہو تو اُس کے لیے تیار رہو، جب طاقتور ہو تو اُس سے کترا جاؤ، جب غضبناک ہو تو اُسے مشتعل کرو، جب فروتن ہو تو اُسے مغرور کرو، جب آسودہ ہو تو اُسے تھکا دو، جب متحد ہو تو اُسے پھوٹ ڈال کر بکھیر دو۔ جہاں وہ تیار نہیں وہاں حملہ کرو، جہاں اُسے گمان نہیں وہاں نکل پڑو۔ یہی اہلِ حرب کی فتح ہے، اور اِسے پیشگی سکھایا نہیں جا سکتا۔
兵者,詭道也。故能而示之不能,用而示之不用,近而示之遠,遠而示之近。利而誘之,亂而取之,實而備之,強而避之,怒而撓之,卑而驕之,佚而勞之,親而離之,攻其無備,出其不意。此兵家之勝,不可先傳也。
جو معرکے سے پہلے معبد میں گنتی کر کے فتح پاتا ہے، اُس کی برتری کے پہلو بہت تھے؛ اور جو معرکے سے پہلے معبد میں گنتی کر کے فتح نہیں پاتا، اُس کی برتری کے پہلو کم تھے۔ بہت پہلو فتح لاتے ہیں، کم پہلو فتح نہیں لاتے — پھر بےگنتی کا کیا حال! میں اِسی نگاہ سے دیکھتا ہوں، اور فتح و شکست عیاں ہو جاتی ہے۔
夫未戰而廟算勝者,得算多也;未戰而廟算不勝者,得算少也。多算勝,少算不勝,而況無算乎!吾以此觀之,勝負見矣。
2 سُون تُزُو نے کہا: جنگ کے آئین میں ایک ہزار تیزرو رتھ، ایک ہزار زرہپوش رتھ، ایک لاکھ مسلح جنگجو، اور ایک ہزار لی تک رسد کی ترسیل درکار ہے۔ تب اندر اور باہر کے اخراجات، مہمانوں اور ایلچیوں کا خرچ، سریش اور لاکھ کا سامان، رتھوں اور زرہوں کی نگہداشت — روزانہ ایک ہزار سونے کے سکے ہیں، اور اِس کے بعد ہی ایک لاکھ کی فوج اُٹھتی ہے۔
孫子曰:凡用兵之法,馳車千駟,革車千乘,帶甲十萬,千里饋糧。則內外之費,賓客之用,膠漆之材,車甲之奉,日費千金,然後十萬之師舉矣。
جنگ برتنے میں فتح کی قدر ہے۔ اگر لڑائی طول کھینچے تو ہتھیار کند ہو جاتے ہیں اور دھار ٹوٹ جاتی ہے؛ شہر پر یورش کرو تو قوت چُک جاتی ہے؛ فوج کو دیر تک میدان میں رکھو تو ریاست کا خزانہ ناکافی پڑ جاتا ہے۔ جب ہتھیار کند ہوں، دھار ٹوٹ جائے، قوت چُک جائے اور مال ختم ہو جائے، تب پڑوسی حکمران تمہاری کمزوری کا فائدہ اُٹھا کر اُٹھ کھڑے ہوں گے، اور تب کوئی دانا بھی ہو تو انجام کو سنوار نہ سکے گا۔ سو جنگ میں بھونڈی تیزی کی خبر تو سنی، مگر ہنرمند طوالت کبھی دیکھنے میں نہ آئی۔ لمبی جنگ سے ریاست کو فائدہ ہوا ہو، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ سو جو جنگ کے نقصانات کو پورے طور نہیں جانتا، وہ جنگ کے فوائد کو بھی پورے طور نہیں جان سکتا۔
其用戰也,貴勝,久則鈍兵挫銳,攻城則力屈,久暴師則國用不足。夫鈍兵挫銳,屈力殫貨,則諸侯乘其弊而起,雖有智者,不能善其後矣。故兵聞拙速,未睹巧之久也。夫兵久而國利者,未之有也。故不盡知用兵之害者,則不能盡知用兵之利也。
جو جنگ کو خوبی سے برتتا ہے، وہ نہ دوبارہ بھرتی کرتا ہے، نہ تیسری بار رسد لادتا ہے۔ سامان اپنی ریاست سے لو، مگر رسد دشمن کے علاقے سے حاصل کرو، تب فوج کا کھانا کافی رہتا ہے۔ ریاست کو فوج کے سبب جو مفلسی آتی ہے وہ دور سے رسد ڈھونے سے ہے؛ دور سے رسد ڈھونا رعایا کو مفلس کرتا ہے۔ جو فوج کے قریب ہیں وہ مہنگا بیچتے ہیں؛ مہنگا بکنا رعایا کو نچوڑ دیتا ہے، اور مال نچڑ جائے تو دیہی محصولوں کا بوجھ سخت ہو جاتا ہے۔ قوت چُک جائے، مال ختم ہو جائے، تو ملک کے بیچوںبیچ گھر خالی ہو جاتے ہیں؛ رعایا کے مصارف کا دس میں سے سات حصہ چلا جاتا ہے، اور حکومت کے مصارف — ٹوٹے رتھ اور تھکے گھوڑے، زرہیں اور خود، تیر اور کمان، برچھے اور ڈھالیں، نیزے اور سپر، بیل اور بڑے چھکڑے — دس میں سے چھ حصہ چلا جاتا ہے۔
善用兵者,役不再籍,糧不三載,取用於國,因糧於敵,故軍食可足也。國之貧於師者遠輸,遠輸則百姓貧;近於師者貴賣,貴賣則百姓竭,財竭則急於丘役。力屈財殫,中原內虛於家,百姓之費,十去其七;公家之費,破軍罷馬,甲胄矢弩,戟楯矛櫓,丘牛大車,十去其六。
سو دانا سردار دشمن کے علاقے سے کھانے کی سعی کرتا ہے۔ دشمن کے غلے کا ایک چُونگ اپنے بیس چُونگ کے برابر ہے؛ اُس کے چارے کا ایک پتھر [وزن] اپنے بیس کے برابر ہے۔ سو دشمن کو مارنے کے لیے غضب چاہیے؛ اور دشمن کا مال چھیننے کے لیے انعام کی لالچ۔ سو رتھوں کی لڑائی میں، جو دس یا زیادہ رتھ چھین لے، سب سے پہلے چھیننے والے کو انعام دو، اور اُن کے جھنڈے بدل ڈالو۔ چھینے ہوئے رتھ اپنوں میں ملا کر چڑھ دوڑو، اور گرفتار سپاہیوں سے اچھا سلوک کر کے اُن کی پرورش کرو۔ اِسی کو کہتے ہیں: دشمن پر فتح پانا، اور خود مزید طاقتور ہونا۔
故智將務食於敵,食敵一鍾,當吾二十鍾;萁稈一石,當吾二十石。故殺敵者,怒也;取敵之利者,貨也。故車戰,得車十乘以上,賞其先得者,而更其旌旗。車雜而乘之,卒善而養之,是謂勝敵而益強。
سو جنگ میں فتح کی قدر ہے، طوالت کی نہیں۔ سو وہ سردار جو جنگ کو جانتا ہے، عوام کی زندگی و موت کا مالک ہے، اور ریاست کے امن و خطرے کا آقا۔
故兵貴勝,不貴久。故知兵之將,民之司命。國家安危之主也。
3 سُون تُزُو نے کہا: جنگ کے آئین میں دشمن کے ملک کو سالم لینا اعلیٰ ہے، اُسے تباہ کرنا اِس سے کمتر؛ اُس کی فوج کو سالم لینا اعلیٰ ہے، اُسے پاش پاش کرنا کمتر؛ اُس کے لشکر کو سالم لینا اعلیٰ ہے، اُسے توڑنا کمتر؛ اُس کی پلٹن کو سالم لینا اعلیٰ ہے، اُسے مٹانا کمتر؛ اُس کے دستے کو سالم لینا اعلیٰ ہے، اُسے چیرنا کمتر۔ سو سو معرکوں میں سو فتحیں پانا اعلیٰترین ہنر نہیں؛ لڑے بغیر دشمن کی فوج کو مطیع کر لینا — یہی اعلیٰترین ہنر ہے۔
孫子曰:凡用兵之法,全國為上,破國次之;全軍為上,破軍次之;全旅為上,破旅次之;全卒為上,破卒次之;全伍為上,破伍次之。是故百戰百勝,非善之善者也;不戰而屈人之兵,善之善者也。
سو بہترین جنگ دشمن کی تدبیر پر وار ہے، اِس سے کم اُس کے اتحادوں پر وار، اِس سے کم اُس کی فوج پر وار، اور سب سے پست شہر پر یورش۔ شہر پر یورش کا طریقہ صرف تب اختیار کرو جب چارہ نہ ہو۔ ڈھالیں اور محصور رتھ بنانے، اوزار اور آلات جُٹانے میں تین مہینے لگتے ہیں؛ اور مورچے کے ٹیلے کھڑے کرنے میں مزید تین مہینے۔ سردار اپنے غصے پر قابو نہ پائے اور سپاہیوں کو چیونٹیوں کی طرح دیوار پر چڑھا دے، تو ایک تہائی سپاہی مارے جائیں گے اور شہر پھر بھی نہ گرے گا: یہی یورش کی آفت ہے۔
故上兵伐謀,其次伐交,其次伐兵,其下攻城。攻城之法,為不得已。修櫓轒轀,具器械,三月而後成;距闉,又三月而後已。將不勝其忿,而蟻附之,殺士三分之一,而城不拔者,此攻之災也。
سو جو جنگ کو خوبی سے برتتا ہے، وہ دشمن کی فوج کو بغیر لڑے مطیع کرتا ہے، اُس کے شہر بغیر یورش کے سر کرتا ہے، اُس کے ملک کو بغیر طویل مہم کے مٹاتا ہے۔ وہ سب کچھ سالم رکھ کر جہان بھر میں کشمکش کرتا ہے، سو ہتھیار کند نہیں ہوتے اور فائدہ پورا رہتا ہے: یہی تدبیر سے یورش کا آئین ہے۔
故善用兵者,屈人之兵,而非戰也,拔人之城而非攻也,毀人之國而非久也,必以全爭於天下,故兵不頓而利可全,此謀攻之法也。
سو جنگ کے آئین میں: اگر دس گنا ہو تو دشمن کو گھیر لو، اگر پانچ گنا تو اُس پر یورش کرو، اگر دُگنا تو اُسے بانٹ دو، اگر برابر تو اُس سے لڑ سکو، اگر کم تو اُس سے بچ نکلو، اگر برتر نہ ہو تو اُس سے کترا جاؤ۔ سو چھوٹی فوج کی ضِد بڑی فوج کے ہاتھوں اسیری ہے۔
故用兵之法,十則圍之,五則攻之,倍則分之,敵則能戰之,少則能逃之,不若則能避之。故小敵之堅,大敵之擒也。
سردار ریاست کا سہارا ہے۔ سہارا مکمل ہو تو ریاست ضرور مضبوط رہتی ہے، سہارے میں رخنہ ہو تو ریاست ضرور کمزور پڑتی ہے۔ سو حاکم تین طرح سے اپنی فوج کے لیے مصیبت بنتا ہے: یہ نہ جانتے ہوئے کہ فوج آگے نہیں بڑھ سکتی، اُسے آگے بڑھنے کا حکم دے؛ یہ نہ جانتے ہوئے کہ فوج پیچھے نہیں ہٹ سکتی، اُسے پیچھے ہٹنے کا حکم دے — اِسے فوج کو باندھ دینا کہتے ہیں۔ فوج کے معاملات نہ جانتے ہوئے فوج کے انتظام میں دخل دے تو سپاہی مخمصے میں پڑ جاتے ہیں۔ فوج کی حرکیات نہ جانتے ہوئے فوجی کمان میں دخل دے تو سپاہی شک میں پڑ جاتے ہیں۔ جب تینوں فوجیں مخمصے اور شک میں ہوں، تو پڑوسی حکمرانوں کی مصیبت آ پہنچتی ہے۔ اِسے کہتے ہیں: اپنی فوج میں انتشار پھیلا کر دشمن کو فتح تھما دینا۔
夫將者,國之輔也。輔周則國必強,輔隙則國必弱。故君之所以患於軍者三:不知軍之不可以進而謂之進,不知軍之不可以退而謂之退,是謂縻軍;不知三軍之事,而同三軍之政,則軍士惑矣;不知三軍之權,而同三軍之任,則軍士疑矣。三軍既惑且疑,則諸侯之難至矣。是謂亂軍引勝。
سو فتح کو جاننے کی پانچ راہیں ہیں: جو جانتا ہے کہ کب لڑنا ہے اور کب نہیں، وہ جیتتا ہے۔ جو کم اور زیادہ فوج کا استعمال جانتا ہے، وہ جیتتا ہے۔ جس کے اوپر اور نیچے والے ایک ہی خواہش رکھتے ہوں، وہ جیتتا ہے۔ جو تیاری کے ساتھ بےتیاری کا انتظار کرے، وہ جیتتا ہے۔ جس کا سردار اہل ہو اور حاکم دخل نہ دے، وہ جیتتا ہے۔ یہی پانچ فتح کو جاننے کی راہ ہیں۔
故知勝有五:知可以戰與不可以戰者,勝。識眾寡之用者,勝。上下同欲者,勝。以虞待不虞者,勝。將能而君不御者,勝。此五者,知勝之道也。
سو کہا گیا: دوسرے کو جانو اور خود کو جانو، تو سو معرکوں میں خطرہ نہیں۔ دوسرے کو نہ جانو مگر خود کو جانو، تو ایک بار فتح اور ایک بار شکست۔ نہ دوسرے کو جانو نہ خود کو، تو ہر معرکے میں ضرور شکست۔
故曰:知己知彼,百戰不貽;不知彼而知己,一勝一負;不知彼不知己,每戰必敗。
4 سُون تُزُو نے کہا: قدیم زمانے کے ماہرِ جنگ پہلے خود کو ناقابلِ شکست بناتے تھے، پھر دشمن کے قابلِ شکست ہونے کا انتظار کرتے۔ ناقابلِ شکست ہونا اپنے اختیار میں ہے، دشمن کا قابلِ شکست ہونا دشمن کے اختیار میں۔ سو ماہرِ جنگ خود کو ناقابلِ شکست بنا سکتا ہے، مگر دشمن کو لازمی قابلِ شکست نہیں بنا سکتا۔ سو کہا گیا: فتح کو جانا جا سکتا ہے، مگر بنایا نہیں جا سکتا۔
孫子曰:昔之善戰者,先為不可勝,以待敵之可勝。不可勝在己,可勝在敵。故善戰者,能為不可勝,不能使敵必可勝。故曰:勝可知,而不可為。
ناقابلِ شکست ہونا دفاع میں ہے؛ قابلِ شکست ہونا حملے میں۔ دفاع اِس لیے کہ قوت ناکافی ہے، حملہ اِس لیے کہ قوت وافر ہے۔ جو دفاع میں ماہر ہے وہ زمین کی نو گہرائیوں میں چھپ جاتا ہے؛ جو حملے میں ماہر ہے وہ آسمان کی نو بلندیوں سے حرکت کرتا ہے۔ سو وہ خود کو محفوظ رکھ سکتا ہے اور کامل فتح پا سکتا ہے۔
不可勝者,守也;可勝者,攻也。守則不足,攻則有餘。善守者,藏於九地之下,善攻者,動於九天之上,故能自保而全勝也。
فتح کو اُس حد تک دیکھنا جہاں تک عام لوگوں کی نظر ہے، اعلیٰترین ہنر نہیں؛ فتح پا کر جہان کہے ”کیا خوب!“، یہ بھی اعلیٰترین ہنر نہیں۔ سو خزاں کے رُوئیں کو اُٹھانا زور کی نشانی نہیں، سورج اور چاند کو دیکھنا تیز نظر کی نشانی نہیں، گرج کو سننا تیز کان کی نشانی نہیں۔ قدیم زمانے کے ماہرِ جنگ اُنہیں فتح کرتے تھے جنہیں فتح کرنا آسان تھا۔ سو ماہرِ جنگ کی فتح میں نہ دانائی کی شہرت ہوتی ہے، نہ بہادری کا کارنامہ۔ سو اُس کی فتح میں چُوک نہیں ہوتی۔ چُوک نہ ہونا اِس لیے کہ اُس کی تدبیریں لازماً فتح لاتی ہیں، وہ اُسے شکست دیتا ہے جو پہلے ہی شکست کھا چکا ہے۔ سو ماہرِ جنگ پہلے ناقابلِ شکست مقام پر جم جاتا ہے، اور دشمن کی شکست کا موقع ہاتھ سے نہیں دیتا۔ سو فتحمند فوج پہلے فتح پاتی ہے پھر لڑائی چاہتی ہے؛ شکستخوردہ فوج پہلے لڑتی ہے پھر فتح چاہتی ہے۔ جو جنگ کو خوبی سے برتتا ہے، وہ طریقت کو سنوارتا ہے اور ضابطے کو تھامتا ہے، سو فتح و شکست کا فیصلہ اُس کے ہاتھ میں رہتا ہے۔
見勝不過眾人之所知,非善之善者也;戰勝而天下曰善,非善之善者也。故舉秋毫不為多力,見日月不為明目,聞雷霆不為聰耳。古之善戰者,勝於易勝者也。故善戰者之勝也,無智名,無勇功,故其戰勝不忒。不忒者,其所措必勝,勝已敗者也。故善戰者,先立於不敗之地,而不失敵之敗也。是故勝兵先勝,而後求戰,敗兵先戰而後求勝。善用兵者,修道而保法,故能為勝敗之政。
جنگ کا آئین: پہلا، پیمائش؛ دوسرا، مقدار؛ تیسرا، شمار؛ چوتھا، توازن؛ پانچواں، فتح۔ زمین سے پیمائش جنم لیتی ہے، پیمائش سے مقدار، مقدار سے شمار، شمار سے توازن، اور توازن سے فتح۔ سو فتحمند فوج ایسی ہے جیسے رتی کے مقابل من رکھا ہو، اور شکستخوردہ فوج ایسی جیسے من کے مقابل رتی۔ فتحمند کی لڑائی ایسی ہے جیسے ہزار تھاہ کی گھاٹی میں جمع پانی کا چھوٹ نکلنا: یہی صفبندی ہے۔
兵法:一曰度,二曰量,三曰數,四曰稱,五曰勝。地生度,度生量,量生數,數生稱,稱生勝。故勝兵若以鎰稱銖,敗兵若以銖稱鎰。勝者之戰,若決積水於千仞之谿者,形也。
5 سُون تُزُو نے کہا: بڑی فوج کو یوں سنبھالنا جیسے چھوٹی کو — یہ تقسیم اور شمار کا معاملہ ہے۔ بڑی فوج سے یوں لڑنا جیسے چھوٹی سے — یہ نشان اور اشارے کا معاملہ ہے۔ تینوں فوجوں کو ایسے کھڑا کرنا کہ دشمن کی یورش سہ جائیں اور شکست نہ کھائیں — یہ غیرمعمولی اور معمول [奇正] کا معاملہ ہے۔ فوج کا وار وہاں جہاں سنگرِیزے سے انڈے پر چوٹ کی جائے — یہ خالی و بھرے [虛實] کا معاملہ ہے۔
孫子曰:凡治眾如治寡,分數是也;鬥眾如鬥寡,形名是也;三軍之眾,可使必受敵而無敗者,奇正是也;兵之所加,如以碫投卵者,虛實是也。
ہر لڑائی میں معمول سے مقابلہ کرو، غیرمعمولی سے فتح پاؤ۔ سو جو غیرمعمولی چالیں بروئے کار لانے میں ماہر ہے، وہ آسمان و زمین کی طرح بےانت ہے،
دریا و سمندر کی طرح ناتمام۔ ختم ہو کر پھر شروع ہونا — سورج اور چاند ایسے ہی ہیں۔ مر کر پھر جینا — چاروں موسم ایسے ہی ہیں۔ سُر پانچ سے زیادہ نہیں، مگر پانچ سُروں کی گردشیں اِتنی کہ سب سنی نہیں جا سکتیں۔ رنگ پانچ سے زیادہ نہیں، مگر پانچ رنگوں کی گردشیں اِتنی کہ سب دیکھی نہیں جا سکتیں۔ ذائقے پانچ سے زیادہ نہیں، مگر پانچ ذائقوں کی گردشیں اِتنی کہ سب چکھی نہیں جا سکتیں۔ جنگی برتری غیرمعمولی اور معمول سے زیادہ نہیں، مگر اِن دونوں کی گردشیں اِتنی کہ اُن کا شمار نہیں ہو سکتا۔ غیرمعمولی اور معمول ایک دوسرے کو جنم دیتے ہیں، جیسے دائرے کی بےسری گردش — کون اُس کی تھاہ پا سکتا ہے؟
凡戰者,以正合,以奇勝。故善出奇者,無窮如天地,不竭如
江海。終而複始,日月是也。死而復生,四時是也。聲不過五,五聲之變,不可勝聽也;色不過五,五色之變,不可勝觀也;味不過五,五味之變,不可勝嘗也;戰勢,不過奇正,奇正之變,不可勝窮也。奇正相生,如循環之無端,熟能窮之哉?
اُچھلتے پانی کی تیزی جو پتھروں کو رَوڑ دے — یہ برتریِ رفتار ہے۔ شکاری پرندے کی تیزی جو [شکار کی] ہڈی توڑ ڈالے — یہ وقت کی درستی ہے۔ سو ماہرِ جنگ کی برتری کڑی ہوتی ہے اور اُس کا وقت مختصر۔ برتری تنی ہوئی کمان کی مانند، وقت لبلبی دبانے کی مانند۔
激水之疾,至於漂石者,勢也;鷙鳥之疾,至於毀折者,節也。是故善戰者,其勢險,其節短。勢如張弩,節如發機。
گڈمڈ اور اُلجھی ہوئی لڑائی میں بظاہر انتشار ہوتا ہے، مگر [فوج کو] منتشر نہیں کیا جا سکتا۔ دُھند اور دُھندلکے میں صف گول دکھائی دیتی ہے، مگر شکست نہیں دی جا سکتی۔ انتشار نظم سے جنم لیتا ہے، بزدلی دلیری سے، کمزوری طاقت سے۔ نظم اور انتشار شمار کی بات ہے؛ دلیری اور بزدلی برتری کی؛ طاقت اور کمزوری صفبندی کی۔ سو جو دشمن کو خوبی سے حرکت دیتا ہے، وہ ایک شکل بناتا ہے جس کی دشمن ضرور پیروی کرتا ہے؛ کچھ [چارے کے طور پر] دیتا ہے جسے دشمن ضرور لپکتا ہے۔ فائدے سے اُسے حرکت دو، پھر سپاہیوں کے ساتھ گھات میں رہو۔
紛紛紜紜,鬥亂而不可亂也;渾渾沌沌,形圓而不可敗也。亂生於治,怯生於勇,弱生於強。治亂,數也;勇怯,勢也;強弱,形也。故善動敵者,形之,敵必從之;予之,敵必取之。以利動之,以卒待之。
سو ماہرِ جنگ برتری سے فتح ڈھونڈتا ہے، افراد سے مطالبہ نہیں کرتا۔ سو وہ آدمیوں کا انتخاب کرتا ہے اور برتری پر بھروسا رکھتا ہے۔ جو برتری پر بھروسا رکھتا ہے، وہ آدمیوں کو یوں لڑاتا ہے جیسے لکڑی اور پتھر لُڑھکائے جائیں۔ لکڑی اور پتھر کی سرشت یہ ہے کہ ہموار جگہ پر ٹھہرے رہیں، ڈھلوان پر لُڑھکیں، چوکور ہوں تو رُکیں، گول ہوں تو چلیں۔ سو ماہرِ جنگ کی برتری ایسی ہے جیسے ہزار تھاہ کے پہاڑ سے گول پتھر لُڑھکایا جائے: یہی برتری ہے۔
故善戰者,求之於勢,不責於人;故能擇人而任勢。任勢者,其戰人也,如轉木石。木石之性,安則靜,危則動,方則止,圓則行。故善戰人之勢,如轉圓石於千仞之山者,勢也。
6 سُون تُزُو نے کہا: جو میدانِ جنگ میں پہلے پہنچ کر دشمن کا انتظار کرے وہ آسودہ رہتا ہے؛ جو میدانِ جنگ میں بعد میں پہنچ کر لڑائی کی طرف دوڑے وہ تھکا ہوتا ہے۔
孫子曰:凡先處戰地而待敵者佚,後處戰地而趨戰者勞。
سو ماہرِ جنگ دوسروں کو [اپنی طرف] لاتا ہے، خود اُن کی طرف نہیں جاتا۔ دشمن کو خود چل کر آنے پر مجبور کرنے کے لیے اُسے فائدے کا لالچ دو؛ دشمن کو آنے سے روکنے کے لیے اُسے نقصان دکھاؤ۔ سو اگر دشمن آسودہ ہو تو اُسے تھکاؤ، سیر ہو تو بھوکا کرو، جما ہوا ہو تو ہلا دو۔ وہاں نکلو جہاں اُسے دوڑنا ہی پڑے، وہاں دوڑو جہاں اُسے گمان نہیں۔ ہزار لی چل کر بھی نہ تھکنا اِس لیے کہ اُس زمین سے گزرو جہاں دشمن نہیں۔ حملہ کر کے لازماً سر کر لینا اِس لیے کہ وہاں حملہ کرو جہاں دشمن کی حفاظت نہیں۔ دفاع میں لازماً استوار رہنا اِس لیے کہ وہاں دفاع کرو جہاں دشمن حملہ نہیں کرتا۔
故善戰者,致人而不致於人。能使敵人自至者,利之也;能使敵人不得至者,害之也。故敵佚能勞之,飽能饑之,安能動之。出其所必趨,趨其所不意。行千里而不勞者,行於無人之地也;攻而必取者,攻其所不守也。守而必固者,守其所不攻也。
سو جو حملے میں ماہر ہے، دشمن نہیں جانتا کہ کہاں دفاع کرے؛ جو دفاع میں ماہر ہے، دشمن نہیں جانتا کہ کہاں حملہ کرے۔ کیا باریک، کیا باریک — یہاں تک کہ بےصورت ہو جائے! کیا پُراسرار، کیا پُراسرار — یہاں تک کہ بےآواز ہو جائے! سو وہ دشمن کی زندگی و موت کا مالک بن جاتا ہے۔ آگے بڑھو تو دشمن روک نہ سکے — اِس لیے کہ اُس کی خالی جگہ پر ٹوٹ پڑے۔ پیچھے ہٹو تو دشمن پیچھا نہ کر سکے — اِس لیے کہ اِتنی تیزی کہ پکڑ میں نہ آئے۔ سو اگر میں لڑنا چاہوں تو دشمن خواہ اونچی فصیلیں اور گہری خندقیں بنا لے، پھر بھی مجبور ہو گا کہ مجھ سے لڑے — اِس لیے کہ میں اُس جگہ پر حملہ کروں جسے بچانا اُس پر لازم ہے۔ اگر میں لڑنا نہ چاہوں تو خواہ زمین پر لکیر کھینچ کر اُس کی حفاظت کروں، دشمن مجھ سے لڑ نہ سکے — اِس لیے کہ میں اُس کا رخ [اُس کی منزل سے] موڑ دوں۔
故善攻者,敵不知其所守;善守者,敵不知其所攻。微乎微乎,至於無形;神乎神乎,至於無聲,故能為敵之司命。進而不可禦者,沖其虛也;退而不可追者,速而不可及也。故我欲戰,敵雖高壘深溝,不得不與我戰者,攻其所必救也;我不欲戰,雖畫地而守之,敵不得與我戰者,乖其所之也。
سو دشمن کی صورت آشکار کرو اور خود بےصورت رہو، تب میں مجتمع ہوتا ہوں اور دشمن بٹ جاتا ہے۔ میں ایک ہو کر مجتمع، دشمن دس میں بٹا — یوں دس سے اُس کے ایک پر حملہ ہوتا ہے۔ تب میری فوج زیادہ اور دشمن کی کم؛ اور جو زیادہ سے کم پر وار کر سکے، اُس کے لیے حریف تھوڑے رہ جاتے ہیں۔ میں جہاں لڑوں گا وہ جگہ [دشمن کو] معلوم نہ ہو؛ معلوم نہ ہو تو دشمن کو بہت جگہ حفاظت کرنی پڑے؛ بہت جگہ حفاظت کرے تو جہاں میں لڑوں گا وہاں دشمن تھوڑے رہ جائیں۔ سو آگے کی حفاظت کرے تو پیچھے تھوڑے؛ پیچھے کی کرے تو آگے تھوڑے؛ بائیں کی کرے تو دائیں تھوڑے؛ دائیں کی کرے تو بائیں تھوڑے؛ ہر جگہ حفاظت کرے تو ہر جگہ تھوڑے۔ تھوڑے وہ ہیں جو دوسروں سے بچاؤ کرتے ہیں؛ زیادہ وہ ہیں جو دوسروں کو بچاؤ پر مجبور کرتے ہیں۔
故形人而我無形,則我專而敵分。我專為一,敵分為十,是以十攻其一也。則我眾敵寡,能以眾擊寡者,則吾之所與戰者約矣。吾所與戰之地不可知,不可知則敵所備者多,敵所備者多,則吾所與戰者寡矣。故備前則後寡,備後則前寡,備左則右寡,備右則左寡,無所不備,則無所不寡。寡者,備人者也;眾者,使人備己者也。
سو اگر لڑائی کی جگہ معلوم ہو اور لڑائی کا دن معلوم ہو، تو ہزار لی چل کر بھی معرکہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر لڑائی کی جگہ معلوم نہ ہو، نہ دن معلوم ہو، تو بایاں دائیں کو نہ بچا سکے، دایاں بائیں کو نہ بچا سکے، اگلا پچھلے کو نہ بچا سکے، پچھلا اگلے کو نہ بچا سکے — پھر جب فاصلہ دور کئی دس لی اور نزدیک بھی کئی لی ہو تو کیا کہنا! میرے اندازے میں
یُوئے [越] کے لوگوں کی فوج خواہ کتنی ہی زیادہ ہو، فتح میں اُس کا کیا فائدہ! سو کہا گیا: فتح بنائی جا سکتی ہے۔ دشمن خواہ کتنا ہی زیادہ ہو، اُسے لڑنے سے روکا جا سکتا ہے۔ سو اُسے پرکھو تاکہ اُس کے نفع و نقصان کا حساب جانو؛ اُس پر نگاہ رکھو تاکہ اُس کی حرکت و سکون کے اصول جانو؛ اُس پر صورت ڈالو تاکہ اُس کی موت و زیست کی سرزمین جانو؛ اُس سے جھڑپ کرو تاکہ اُس کی قوت کے وافر اور کم ہونے کے مقام جانو۔
故知戰之地,知戰之日,則可千里而會戰;不知戰之地,不知戰日,則左不能救右,右不能救左,前不能救後,後不能救前,而況遠者數十裏,近者數裏乎!以吾度之,
越人之兵雖多,亦奚益於勝哉!故曰:勝可為也。敵雖眾,可使無鬥。故策之而知得失之計,候之而知動靜之理,形之而知死生之地,角之而知有餘不足之處。
سو صفبندی کی انتہا یہ ہے کہ بےصورت ہو جائے۔ بےصورت ہو تو گہرا جاسوس بھی جھانک نہ سکے، اور دانا بھی تدبیر نہ کر سکے۔ صورت کے مطابق فتح کا انتظام کرو تو مجمع کے سامنے فتح دھری ہو اور مجمع اُسے جان نہ سکے۔ سب جانتے ہیں کہ میں نے کس صورت سے فتح پائی، مگر کوئی نہیں جانتا کہ میں نے کس صورت سے فتح کا انتظام کیا۔ سو میری فتح دُہرائی نہیں جاتی، اور میں بےانت صورتوں میں [دشمن کی صورت کے] جواب میں ڈھلتا ہوں۔ فوج کی صورت پانی کی مانند ہے: پانی کی روش بلندی سے کترا کر نشیب کی طرف دوڑنا ہے، فوج کی صورت بھرے سے کترا کر خالی پر چوٹ کرنا۔ پانی زمین کے مطابق اپنا بہاؤ متعین کرتا ہے، فوج دشمن کے مطابق اپنی فتح۔ سو فوج کی کوئی مستقل برتری نہیں، پانی کی کوئی مستقل صورت نہیں۔ جو دشمن کی تبدیلی کے مطابق ڈھل کر فتح پائے، اُسے دیوتا [کی مانند] کہتے ہیں۔
故形兵之極,至於無形。無形則深間不能窺,智者不能謀。因形而措勝於眾,眾不能知。人皆知我所以勝之形,而莫知吾所以制勝之形。故其戰勝不復,而應形於無窮。夫兵形象水,水之行避高而趨下,兵之形避實而擊虛;水因地而制流,兵因敵而制勝。故兵無常勢,水無常形。能因敵變化而取勝者,謂之神。
سو پانچ عناصر میں کسی ایک کو مستقل غلبہ نہیں، چاروں موسموں میں کسی کو مستقل مقام نہیں، دن کبھی چھوٹے کبھی لمبے، چاند کبھی گھٹتا کبھی بڑھتا ہے۔
故五行無常勝,四時無常位,日有短長,月有死生。
7 سُون تُزُو نے کہا: جنگ کے آئین میں سردار حاکم سے حکم لیتا ہے، فوج کو یکجا اور مجمع کو جمع کرتا ہے، [دشمن کے] بالمقابل پڑاؤ ڈالتا ہے — اور فوجی کشمکش سے دشوار کچھ نہیں۔ فوجی کشمکش کی دشواری یہ ہے کہ ٹیڑھی راہ کو سیدھی، اور مصیبت کو فائدہ بنانا ہے۔ سو اپنی راہ ٹیڑھی کرو اور دشمن کو فائدے سے لبھاؤ؛ اُس کے بعد نکل کر اُس سے پہلے پہنچ جاؤ — یہی ٹیڑھی اور سیدھی راہ کا حساب جاننا ہے۔ فوجی کشمکش میں فائدہ بھی ہے اور خطرہ بھی۔ پوری فوج اُٹھا کر فائدے کے لیے دوڑو تو بروقت نہ پہنچو گے؛ فوج کو [رسد سمیت] چھوڑ کر فائدے کے لیے دوڑو تو سازوسامان ضائع ہو جائے گا۔ سو اگر زرہیں لپیٹ کر دوڑو، دن رات نہ رُکو، دُگنی رفتار سے چلو، اور ایک سو لی تک فائدے کی خاطر دوڑو، تو تینوں سردار اسیر ہو جائیں گے؛ تنومند آگے، تھکے پیچھے، اور اِس دستور سے دس میں سے ایک پہنچے گا۔ پچاس لی تک فائدے کی خاطر دوڑو تو اگلا سردار گر جائے گا، اور اِس دستور سے آدھے پہنچیں گے۔ تیس لی تک فائدے کی خاطر دوڑو تو دو تہائی پہنچیں گے۔
孫子曰:凡用兵之法,將受命於君,合軍聚眾,交和而舍,莫難於軍爭。軍爭之難者,以迂為直,以患為利。故迂其途,而誘之以利,後人發,先人至,此知迂直之計者也。軍爭為利,軍爭為危。舉軍而爭利則不及,委軍而爭利則輜重捐。是故捲甲而趨,日夜不處,倍道兼行,百裡而爭利,則擒三將軍,勁者先,疲者後,其法十一而至;五十裏而爭利,則蹶上將軍,其法半至;三十裏而爭利,則三分之二至。
سو فوج کے پاس سازوسامان نہ ہو تو ہلاک، رسد نہ ہو تو ہلاک، ذخیرہ نہ ہو تو ہلاک۔ سو جو پڑوسی حکمرانوں کی تدبیریں نہیں جانتا، وہ پیشگی اتحاد نہیں باندھ سکتا؛ جو پہاڑ اور جنگل، درّے اور رکاوٹیں، دلدل اور جھیل کی ہیئت نہیں جانتا، وہ فوج نہیں چلا سکتا؛ جو مقامی رہنما نہیں لیتا، وہ زمین کا فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔ سو فوج دھوکے پر قائم ہوتی ہے، فائدے سے حرکت کرتی ہے، اور بٹنے و جُڑنے سے اپنی صورت بدلتی ہے۔ سو اُس کی تیزی ہوا کی مانند، اُس کی سستروی جنگل کی مانند، اُس کا حملہ آگ کی مانند، اُس کا سکون پہاڑ کی مانند، اُس کا چھپاؤ اندھیرے کی مانند، اور اُس کی حرکت گرج کی کڑک کی مانند۔ گاؤں لُوٹتے ہوئے فوج کو بانٹو، زمین وسیع کرتے ہوئے فائدہ بانٹو، پلڑا تول کر حرکت کرو۔ جو پہلے ٹیڑھی اور سیدھی راہ کا حساب جانے، وہ جیتتا ہے — یہی فوجی کشمکش کا آئین ہے۔
是故軍無輜重則亡,無糧食則亡,無委積則亡。故不知諸侯之謀者,不能豫交;不知山林、險阻、沮澤之形者,不能行軍;不用鄉導者,不能得地利。故兵以詐立,以利動,以分和為變者也。故其疾如風,其徐如林,侵掠如火,不動如山,難知如陰,動如雷震。掠鄉分眾,廓地分利,懸權而動。先知迂直之計者勝,此軍爭之法也。
《
فوجی انتظام》 [Junzheng، ایک قدیم جنگی متن] میں ہے: ”بات ایک دوسرے کو سنائی نہیں دیتی، سو گھنٹے اور نقّارے رکھے گئے؛ نگاہ ایک دوسرے کو دکھائی نہیں دیتی، سو علم اور جھنڈے رکھے گئے۔“ گھنٹے، نقّارے، علم اور جھنڈے اِس لیے ہیں کہ عوام کے کان اور آنکھ ایک کر دیں۔ جب عوام یکجا ہو جائیں، تو دلیر تنہا آگے نہ بڑھے، بزدل تنہا پیچھے نہ ہٹے — یہی بڑی فوج کو برتنے کا آئین ہے۔ سو رات کی لڑائی میں گھنٹے اور نقّارے زیادہ، دن کی لڑائی میں علم اور جھنڈے زیادہ — تاکہ لوگوں کے کان اور آنکھ کے مطابق [احکام] بدلے جا سکیں۔ سو پوری فوج کا حوصلہ چھینا جا سکتا ہے، سردار کا دل چھینا جا سکتا ہے۔ سو صبح کا حوصلہ تیز ہوتا ہے، دوپہر کا سُست، اور شام کا اپنے ٹھکانے کو لوٹنے پر آمادہ۔
《軍政》曰:“言不相聞,故為之金鼓;視不相見,故為之旌旗。”夫金鼓旌旗者,所以一民之耳目也。民既專一,則勇者不得獨進,怯者不得獨退,此用眾之法也。故夜戰多金鼓,晝戰多旌旗,所以變人之耳目也。三軍可奪氣,將軍可奪心。是故朝氣銳,晝氣惰,暮氣歸。
سو ماہرِ جنگ اُس کے تیز حوصلے سے کتراتا ہے، اور اُس کے سُست و لوٹنے پر آمادہ حوصلے پر چوٹ کرتا ہے: یہ حوصلے کو سنبھالنا ہے۔ نظم سے انتشار کا انتظار کرو، سکون سے شور کا: یہ دل کو سنبھالنا ہے۔ نزدیکی سے دُوری کا انتظار کرو، آسودگی سے تھکن کا، سیری سے بھوک کا: یہ قوت کو سنبھالنا ہے۔ ترتیب سے آتے جھنڈوں کا سامنا مت کرو، شان سے کھڑی صف پر وار مت کرو: یہ حالات کو سنبھالنا ہے۔ سو جنگ کے آئین میں: اونچی ٹیکری پر [بیٹھے دشمن کی] طرف رخ نہ کرو، ٹیلے کو پیٹھ دیے [دشمن کے] خلاف نہ چڑھو، جھوٹی پسپائی کا پیچھا نہ کرو، چابک دستوں پر حملہ نہ کرو، چارے کے طور پر [پیش کی] فوج کو مت نگلو، لوٹتی فوج کا راستہ نہ روکو، گھری فوج کے لیے راہِ فرار چھوڑ دو، پھنسے دشمن کو مت دبوچو۔ یہی جنگ کا آئین ہے۔
善用兵者,避其銳氣,擊其惰歸,此治氣者也。以治待亂,以靜待嘩,此治心者也。以近待遠,以佚待勞,以飽待饑,此治力者也。無邀正正之旗,無擊堂堂之陳,此治變者也。故用兵之法,高陵勿向,背丘勿逆,佯北勿從,銳卒勿攻,餌兵勿食,歸師勿遏,圍師遺闕,窮寇勿迫,此用兵之法也。
8 سُون تُزُو نے کہا: جنگ کے آئین میں سردار حاکم سے حکم لیتا ہے، فوج کو یکجا اور جمع کرتا ہے۔ دشوارگزار زمین پر پڑاؤ نہ ڈالو، چوراہے کی زمین پر اتحاد باندھو، الگتھلگ زمین پر مت ٹھہرو، گھری زمین پر تدبیر کرو، مہلک زمین پر لڑو۔ کچھ راہیں ہیں جن پر نہ چلو، کچھ فوجیں ہیں جن پر وار نہ کرو، کچھ شہر ہیں جن پر یورش نہ کرو، کچھ زمینیں ہیں جن پر کشمکش نہ کرو، اور حاکم کے کچھ حکم ہیں جو نہ مانو۔ سو جو سردار نو تبدیلیوں کے فائدے سے واقف ہو، وہ جنگ کو جانتا ہے۔ جو سردار نو تبدیلیوں کے فائدے سے واقف نہ ہو، خواہ زمین کی ہیئت جانے، زمین کا فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔ جو فوج کو برتتے ہوئے نو تبدیلیوں کا ہنر نہ جانے، خواہ پانچ فوائد جانے، آدمیوں سے کام نہیں لے سکتا۔
孫子曰:凡用兵之法,將受命於君,合軍聚合。泛地無舍,衢地合交,絕地無留,圍地則謀,死地則戰,途有所不由,軍有所不擊,城有所不攻,地有所不爭,君命有所不受。故將通於九變之利者,知用兵矣;將不通九變之利,雖知地形,不能得地之利矣;治兵不知九變之術,雖知五利,不能得人之用矣。
سو دانا کی سوچ لازماً فائدے اور نقصان دونوں کو ملا کر [تولتی] ہے۔ فائدے کو [نقصان کے ساتھ] ملاؤ تو کام قابلِ اعتبار ہو جاتا ہے؛ نقصان کو [فائدے کے ساتھ] ملاؤ تو مصیبت ٹل سکتی ہے۔ سو پڑوسی حکمرانوں کو نقصان سے جھکاؤ، مشقّت سے اُلجھاؤ، اور فائدے سے [اپنی طرف] دوڑاؤ۔ سو جنگ کے آئین میں: اِس پر بھروسا نہ کرو کہ دشمن نہ آئے گا، بلکہ اِس پر کہ تم اُس کے استقبال کے لیے تیار ہو؛ اِس پر بھروسا نہ کرو کہ دشمن حملہ نہ کرے گا، بلکہ اِس پر کہ تمہارے پاس ایسی جگہ ہے جس پر حملہ نہیں ہو سکتا۔ سو سردار کے پانچ خطرے ہیں: جو موت پر تُلا ہو، مارا جا سکتا ہے؛ جو زندگی پر تُلا ہو، اسیر کیا جا سکتا ہے؛ جو تیز غصے والا ہو، اُسے چھیڑا جا سکتا ہے؛ جو نازک آبرو والا ہو، اُسے بےآبرو کیا جا سکتا ہے؛ جو عوام سے حد سے زیادہ محبت رکھے، اُسے پریشان کیا جا سکتا ہے۔ یہ پانچوں سردار کی خطائیں ہیں، جنگ کی آفتیں ہیں۔ فوج کا تباہ ہونا اور سردار کا مارا جانا لازماً اِنہی پانچ خطروں سے ہوتا ہے: سو اِن کا جائزہ لینا ناگزیر ہے۔
是故智者之慮,必雜於利害,雜於利而務可信也,雜於害而患可解也。是故屈諸侯者以害,役諸侯者以業,趨諸侯者以利。故用兵之法,無恃其不來,恃吾有以待之;無恃其不攻,恃吾有所不可攻也。故將有五危,必死可殺,必生可虜,忿速可侮,廉潔可辱,愛民可煩。凡此五者,將之過也,用兵之災也。覆軍殺將,必以五危,不可不察也。
9 سُون تُزُو نے کہا: فوج کو ٹھہرانے اور دشمن کو پرکھنے میں — پہاڑ پار کرو تو وادیوں کے ساتھ رہو، کھلی و روشن سمت دیکھ کر بلندی پر ٹھہرو، اونچائی [پر بیٹھے دشمن] سے لڑنے کو مت چڑھو: یہ پہاڑی علاقے میں فوج کو ٹھہرانا ہے۔ دریا پار کرو تو دریا سے دور نکل جاؤ۔ اگر دشمن دریا پار کر کے آئے تو اُس کا استقبال پانی کے اندر مت کرو؛ اُسے آدھا پار ہونے دو، پھر چوٹ کرو — یہی فائدہ ہے۔ لڑنا چاہتے ہو تو پانی سے لگ کر دشمن کا استقبال مت کرو؛ کھلی و روشن سمت دیکھ کر بلندی پر ٹھہرو، بہاؤ کا سامنا مت کرو: یہ دریا کے کنارے فوج کو ٹھہرانا ہے۔ نمکین دلدل پار کرو تو صرف جلد نکل جاؤ، مت ٹھہرو؛ اگر نمکین دلدل کے بیچ لڑائی چھڑ جائے تو لازماً پانی اور گھاس کے ساتھ رہو اور جھنڈ کو پیٹھ دو: یہ نمکین دلدل میں فوج کو ٹھہرانا ہے۔ کھلے میدان میں ہموار جگہ پر ٹھہرو، دائیں اور پیچھے بلندی رکھو، سامنے موت اور پیچھے زیست: یہ کھلے میدان میں فوج کو ٹھہرانا ہے۔
孫子曰:凡處軍相敵,絕山依穀,視生處高,戰隆無登,此處山之軍也。絕水必遠水,客絕水而來,勿迎之於水內,令半渡而擊之利,欲戰者,無附於水而迎客,視生處高,無迎水流,此處水上之軍也。絕斥澤,唯亟去無留,若交軍於斥澤之中,必依水草而背眾樹,此處斥澤之軍也。平陸處易,右背高,前死後生,此處平陸之軍也。
اِن چار [قسم کے] لشکروں کے فوائد سے
پیلے شہنشاہ [Huangdi] نے چار [دیگر] شہنشاہوں کو فتح کیا۔ فوج عموماً بلندی کو پسند کرتی ہے اور نشیب کو ناپسند، دھوپ کی قدر کرتی ہے اور سایہ کو حقیر جانتی ہے۔ صحت کو سنبھالو اور ٹھوس زمین پر ٹھہرو، تو فوج میں سو بیماریاں نہ ہوں گی: اِسے یقینی فتح کہتے ہیں۔ ٹیلوں، پہاڑیوں اور بندھوں پر لازماً دھوپ والی سمت ٹھہرو اور اُنہیں دائیں اور پیچھے رکھو: یہی فوج کا فائدہ اور زمین کی مدد ہے۔ اوپر بارش ہو اور پانی چڑھ آئے، تو پار اُترنے سے پہلے اُس کے تھمنے کا انتظار کرو۔ جہاں زمین میں گہری کھائیاں، آسمانی کنویں، آسمانی قیدخانے، آسمانی جال، آسمانی پھندے یا آسمانی دراڑیں ہوں، اُن سے لازماً جلد دور ہو جاؤ، اُن کے نزدیک مت جاؤ۔ میں اُن سے دور رہوں، دشمن اُن کے قریب؛ میں اُن کا سامنا کروں، دشمن اُنہیں پیٹھ دے۔ فوج کے پہلو میں کوئی درّہ، رکاوٹ، تالاب، کنواں، سرکنڈے، جھاڑ، چھوٹا جنگل یا گھنی جھاڑی ہو، تو لازماً احتیاط سے بار بار اُس کی تلاشی لو: یہی وہ جگہیں ہیں جہاں گھات اور جاسوس چھپتے ہیں۔
凡此四軍之利,
黃帝之所以勝四帝也。凡軍好高而惡下,貴陽而賤陰,養生而處實,軍無百疾,是謂必勝。丘陵堤防,必處其陽而右背之,此兵之利,地之助也。上雨水流至,欲涉者,待其定也。凡地有絕澗、天井、天牢、天羅、天陷、天隙,必亟去之,勿近也。吾遠之,敵近之;吾迎之,敵背之。軍旁有險阻、潢井、蒹葭、小林、蘙薈者,必謹覆索之,此伏姦之所處也。
دشمن نزدیک ہو اور خاموش ہو تو اپنی دشوارگزار جگہ کے بھروسے ہے؛ دور ہو اور لڑائی چھیڑے تو چاہتا ہے کہ [تم] آگے بڑھو؛ ہموار جگہ پر ٹھہرا ہو تو اُس میں کوئی فائدہ ہے۔ درختوں کا جھنڈ ہلے تو [دشمن] آ رہا ہے؛ گھاس میں بہت آڑیں [بنی] ہوں تو دھوکا ہے؛ پرندے اُڑیں تو گھات ہے؛ جانور بدکیں تو [حملے کی] یورش ہے؛ گرد اونچی اور تیز ہو تو رتھ آ رہے ہیں؛ نیچی اور پھیلی ہو تو پیادہ آ رہے ہیں؛ بکھری اور دھاریوں میں ہو تو لکڑہارے [کاٹ رہے] ہیں؛ تھوڑی ہو اور آتی جاتی ہو تو [فوج] پڑاؤ ڈال رہی ہے۔ [ایلچی کی] بات نرم اور [دشمن کی] تیاری بڑھ رہی ہو تو وہ آگے بڑھ رہا ہے؛ بات سخت اور [فوج] آگے کو دوڑتی ہو تو وہ پیچھے ہٹ رہا ہے؛ ہلکے رتھ پہلے نکل کر پہلو پر ٹھہریں تو وہ صف باندھ رہا ہے؛ بغیر مجبوری کے صلح مانگے تو کوئی سازش ہے؛ دوڑ دھوپ کر کے فوج صفبند کرے تو [حملے کا] وقت ٹھہرا لیا ہے؛ آدھی آگے آدھی پیچھے ہو تو یہ چارہ [دام] ہے۔ [سپاہی] لاٹھی ٹیک کر کھڑے ہوں تو بھوکے ہیں؛ پانی بھرنے والے پہلے خود پی لیں تو پیاسے ہیں؛ فائدہ دیکھ کر بھی آگے نہ بڑھیں تو تھکے ہیں؛ پرندے [خیموں پر] بیٹھ جائیں تو [مقام] خالی ہے؛ رات کو پکاریں تو خوفزدہ ہیں؛ فوج میں کھلبلی ہو تو سردار میں وقار نہیں؛ علم اور جھنڈے ہلیں تو انتشار ہے؛ افسر غصے میں ہوں تو [سب] اکتا چکے ہیں؛ گھوڑے مار کر گوشت کھائیں تو فوج کے پاس رسد نہیں؛ برتن لٹکا کر ٹھکانے نہ لوٹیں تو یہ پھنسا ہوا دشمن ہے۔ [سردار] گڑگڑا کر، دبی زبان سے آہستہ آہستہ لوگوں سے بات کرے تو اپنی فوج کا اعتماد کھو چکا ہے؛ بار بار انعام دے تو تنگ دست ہے؛ بار بار سزا دے تو بےبس ہے؛ پہلے سختی کرے پھر اپنی فوج سے ڈرے تو انتہائی نااہل ہے؛ [ایلچی] بھیج کر معافی مانگے تو دم لینا چاہتا ہے۔
敵近而靜者,恃其險也;遠而挑戰者,欲人之進也;其所居易者,利也;眾樹動者,來也;眾草多障者,疑也;鳥起者,伏也;獸駭者,覆也;塵高而銳者,車來也;卑而廣者,徒來也;散而條達者,樵採也;少而往來者,營軍也;辭卑而備者,進也;辭強而進驅者,退也;輕車先出居其側者,陳也;無約而請和者,謀也;奔走而陳兵者,期也;半進半退者,誘也;杖而立者,饑也;汲而先飲者,渴也;見利而不進者,勞也;鳥集者,虛也;夜呼者,恐也;軍擾者,將不重也;旌旗動者,亂也;吏怒者,倦也;殺馬肉食者,軍無糧也;懸甀不返其舍者,窮寇也;諄諄翕翕,徐與人言者,失眾也;數賞者,窘也;數罰者,困也;先暴而後畏其眾者,不精之至也;來委謝者,欲休息也。
فوج غضب سے بالمقابل کھڑی ہو، دیر تک نہ بھڑے اور نہ ہٹے، تو لازماً احتیاط سے اُس کا جائزہ لو۔ جنگ میں زیادہ [تعداد] ہی قابلِ قدر نہیں؛ بس یہ کہ اندھی یورش سے بچو، اور قوت جمع کر کے، دشمن کو تول کر، آدمیوں کو قابو میں کر لینا کافی ہے۔ جو بےتدبیری سے دشمن کو ہلکا جانے، وہ لازماً اسیر ہو گا۔ سپاہی ابھی مانوس نہ ہوں اور اُنہیں سزا دو تو وہ فرمانبردار نہ ہوں گے؛ فرمانبردار نہ ہوں تو اُن سے کام لینا دشوار ہے۔ سپاہی مانوس ہو چکے ہوں اور سزا نافذ نہ کرو تو اُن سے کام نہیں لیا جا سکتا۔ سو اُنہیں نرمی [شائستگی] سے یکجا کرو اور سختی سے یکرنگ کرو: اِسے یقینی فتح کہتے ہیں۔ اگر احکام ہمیشہ نافذ رہ کر عوام کو سکھائے جائیں تو عوام فرمانبردار ہوتے ہیں؛ اگر احکام نافذ نہ ہونے کے باوجود عوام کو سکھائے جائیں تو عوام فرمانبردار نہیں ہوتے۔ جس کے احکام ہمیشہ نافذ رہتے ہیں، اُس میں اور عوام میں باہمی اعتماد ہوتا ہے۔
兵怒而相迎,久而不合,又不相去,必謹察之。兵非貴益多也,惟無武進,足以並力料敵取人而已。夫惟無慮而易敵者,必擒於人。卒未親而罰之,則不服,不服則難用。卒已親附而罰不行,則不可用。故合之以文,齊之以武,是謂必取。令素行以教其民,則民服;令素不行以教其民,則民不服。令素行者,與眾相得也。
10 سُون تُزُو نے کہا: زمین کی ہیئت میں کھلی زمین ہے، پھنسانے والی زمین ہے، معلّق [گتِرُکی] زمین ہے، تنگ زمین ہے، دشوارگزار زمین ہے، اور دُور کی زمین ہے۔ جہاں میں جا سکوں اور دشمن آ سکے، اُسے کھلی [通] کہتے ہیں۔ کھلی زمین میں پہلے بلند و دھوپ والی جگہ پر قبضہ کرو اور رسد کی راہ محفوظ رکھو؛ پھر لڑو تو فائدہ ہے۔ جہاں جایا جا سکے مگر لوٹنا دشوار ہو، اُسے پھنسانے والی [掛] کہتے ہیں۔ پھنسانے والی زمین میں اگر دشمن غافل ہو تو نکل کر اُسے فتح کر لو؛ مگر اگر دشمن چوکنّا ہو تو نکل کر بھی فتح نہ پاؤ گے اور لوٹنا دشوار ہو گا: یہ نقصان ہے۔ جہاں میرا نکلنا بھی بےفائدہ اور دشمن کا نکلنا بھی بےفائدہ ہو، اُسے معلّق [支] کہتے ہیں۔ معلّق زمین میں خواہ دشمن مجھے لالچ دے، میں نہ نکلوں؛ [فوج کو] ہٹا کر پیچھے لے جاؤں، دشمن کو آدھا نکلنے دوں پھر چوٹ کروں — یہی فائدہ ہے۔ تنگ زمین میں اگر پہلے میں قبضہ کروں تو اُسے بھر کر دشمن کا انتظار کروں؛ اگر دشمن پہلے قبضہ کرے اور [تنگی کو] بھر دے تو اُس پر چڑھائی نہ کرو، مگر اگر نہ بھرے تو چڑھ جاؤ۔ دشوارگزار زمین میں اگر پہلے میں قبضہ کروں تو لازماً بلند و دھوپ والی جگہ پر ٹھہر کر دشمن کا انتظار کروں؛ اگر دشمن پہلے قبضہ کرے تو [فوج کو] ہٹا کر پیچھے لے جاؤں، اُس پر چڑھائی نہ کروں۔ دُور کی زمین میں جب قوتیں برابر ہوں تو لڑائی چھیڑنا دشوار ہے، اور لڑو تو بےفائدہ۔
孫子曰:地形有通者、有掛者、有支者、有隘者、有險者、有遠者。我可以往,彼可以來,曰通。通形者,先居高陽,利糧道,以戰則利。可以往,難以返,曰掛。掛形者,敵無備,出而勝之,敵若有備,出而不勝,難以返,不利。我出而不利,彼出而不利,曰支。支形者,敵雖利我,我無出也,引而去之,令敵半出而擊之利。隘形者,我先居之,必盈之以待敵。若敵先居之,盈而勿從,不盈而從之。險形者,我先居之,必居高陽以待敵;若敵先居之,引而去之,勿從也。遠形者,勢均難以挑戰,戰而不利。
یہ چھ [قسمیں] زمین کے اصول ہیں، سردار کی سب سے بڑی ذمہ داری، جن کا جائزہ لینا ناگزیر ہے۔ سو فوج میں بھگدڑ ہوتی ہے، ڈھیلا پن ہوتا ہے، دھنسنا ہوتا ہے، بکھراؤ ہوتا ہے، انتشار ہوتا ہے، اور شکست ہوتی ہے۔ یہ چھ آسمان و زمین کی آفتیں نہیں، سردار کی خطائیں ہیں۔ قوتیں برابر ہوں اور ایک سے دس پر وار کرو تو بھگدڑ؛ سپاہی مضبوط اور افسر کمزور ہوں تو ڈھیلا پن؛ افسر مضبوط اور سپاہی کمزور ہوں تو دھنسنا؛ بڑے افسر غضب میں ہوں اور فرمانبردار نہ ہوں، دشمن سے سامنا ہو تو کِیْنہ سے خود ہی بھِڑ جائیں اور سردار اُن کی اہلیت نہ جانے تو بکھراؤ؛ سردار کمزور اور بےسخت ہو، تعلیم و ضابطہ واضح نہ ہو، افسر و سپاہی بےقاعدہ ہوں، صف آڑی ترچھی ہو تو انتشار؛ سردار دشمن کو نہ تول سکے، تھوڑوں سے بہتوں کا سامنا کرے، کمزور سے طاقتور پر وار کرے، اور فوج میں کوئی چابک دستہ نہ ہو تو شکست۔
凡此六者,地之道也,將之至任,不可不察也。凡兵有走者、有馳者、有陷者、有崩者、有亂者、有北者。凡此六者,非天地之災,將之過也。夫勢均,以一擊十,曰走;卒強吏弱,曰馳;吏強卒弱,曰陷;大吏怒而不服,遇敵懟而自戰,將不知其能,曰崩;將弱不嚴,教道不明,吏卒無常,陳兵縱橫,曰亂;將不能料敵,以少合眾,以弱擊強,兵無選鋒,曰北。
یہ چھ شکست کی راہیں ہیں، سردار کی سب سے بڑی ذمہ داری، جن کا جائزہ لینا ناگزیر ہے۔ زمین کی ہیئت جنگ کی مددگار ہے۔ دشمن کو تول کر فتح کا انتظام کرنا، درّوں، تنگیوں، دُوری اور نزدیکی کا حساب لگانا — یہی اعلیٰ سردار کا فن ہے۔ جو اِسے جان کر لڑے وہ ضرور فتح پائے گا، جو اِسے جانے بغیر لڑے وہ ضرور شکست کھائے گا۔ سو اگر جنگ کا اصول یقینی فتح کہے اور حاکم کہے ”مت لڑو“، تو لڑنا جائز ہے؛ اگر جنگ کا اصول فتح نہ دکھائے اور حاکم کہے ”ضرور لڑو“، تو نہ لڑنا جائز ہے۔ سو آگے بڑھو تو نام کی خاطر نہیں، پیچھے ہٹو تو سزا کے ڈر سے نہیں؛ صرف عوام کی حفاظت ہو اور حاکم کا فائدہ — ایسا [سردار] ریاست کا خزانہ ہے۔ سپاہیوں کو شیرخوار بچوں کی طرح دیکھو، تو اُن کے ساتھ گہری کھائیوں میں اُتر سکتے ہو؛ سپاہیوں کو پیارے بیٹوں کی طرح دیکھو، تو اُن کے ساتھ مر سکتے ہو۔ مگر جو مہربان ہو کر بھی کام نہ لے سکے، پیار کر کے بھی حکم نہ چلا سکے، بدنظمی میں نظم نہ لا سکے — وہ [سپاہی] بگڑے ہوئے بچوں کی مانند ہیں، اُن سے کام نہیں لیا جا سکتا۔
凡此六者,敗之道也,將之至任,不可不察也。夫地形者,兵之助也。料敵制勝,計險隘遠近,上將之道也。知此而用戰者必勝,不知此而用戰者必敗。故戰道必勝,主曰無戰,必戰可也;戰道不勝,主曰必戰,無戰可也。故進不求名,退不避罪,唯民是保,而利於主,國之寶也。視卒如嬰兒,故可以與之赴深溪;視卒如愛子,故可與之俱死。厚而不能使,愛而不能令,亂而不能治,譬若驕子,不可用也。
یہ جاننا کہ میرے سپاہی وار کر سکتے ہیں، مگر یہ نہ جاننا کہ دشمن پر وار نہیں ہو سکتا — فتح کا آدھا حصہ ہے۔ یہ جاننا کہ دشمن پر وار ہو سکتا ہے، مگر یہ نہ جاننا کہ میرے سپاہی وار نہیں کر سکتے — فتح کا آدھا حصہ ہے۔ یہ جاننا کہ دشمن پر وار ہو سکتا ہے، اور یہ کہ میرے سپاہی وار کر سکتے ہیں، مگر یہ نہ جاننا کہ زمین کی ہیئت لڑائی کے قابل نہیں — فتح کا آدھا حصہ ہے۔ سو جو جنگ کو جانتا ہے، وہ حرکت کرتا ہے تو بھٹکتا نہیں، اُٹھتا ہے تو بےبس نہیں ہوتا۔ سو کہا گیا: دوسرے کو جانو اور خود کو جانو، تو فتح میں خطرہ نہیں؛ آسمان کو جانو اور زمین کو جانو، تو فتح کامل ہو سکتی ہے۔
知吾卒之可以擊,而不知敵之不可擊,勝之半也;知敵之可擊,而不知吾卒之不可以擊,勝之半也;知敵之可擊,知吾卒之可以擊,而不知地形之不可以戰,勝之半也。故知兵者,動而不迷,舉而不窮。故曰:知彼知己,勝乃不殆;知天知地,勝乃可全。
11 سُون تُزُو نے کہا: جنگ کے آئین میں منتشر زمین ہے، ہلکی زمین ہے، متنازع زمین ہے، ملاپ کی زمین ہے، چوراہے کی زمین ہے، بھاری زمین ہے، دشوارگزار زمین ہے، گھری زمین ہے، اور مہلک زمین ہے۔ جب حکمران اپنی ہی زمین میں لڑیں، وہ منتشر زمین ہے۔ جب دشمن کے علاقے میں گہرے نہ گھسے ہوں، وہ ہلکی زمین ہے۔ جہاں میرا قبضہ بھی فائدہ مند ہو اور دشمن کا بھی، وہ متنازع زمین ہے۔ جہاں میں جا سکوں اور دشمن آ سکے، وہ ملاپ کی زمین ہے۔ جہاں تین حکمرانوں کی سرحدیں ملتی ہوں اور پہلے پہنچنے والا جہان بھر کی حمایت پا لے، وہ چوراہے کی زمین ہے۔ جب دشمن کے علاقے میں گہرے گھس جائیں اور بہت سے شہر پیٹھ پیچھے رہ جائیں، وہ بھاری زمین ہے۔ پہاڑ و جنگل، درّے و رکاوٹیں، دلدل و جھیل — ہر دشوارگزار راہ دشوارگزار زمین ہے۔ جہاں سے داخل ہوں وہ راستہ تنگ ہو اور جہاں سے لوٹیں وہ ٹیڑھا، اور دشمن تھوڑا ہو کر بھی میرے بہتوں پر وار کر سکے، وہ گھری زمین ہے۔ جہاں تیز لڑو تو بچو، تیز نہ لڑو تو مٹ جاؤ، وہ مہلک زمین ہے۔
孫子曰:用兵之法,有散地,有輕地,有爭地,有交地,有衢地,有重地,有泛地,有圍地,有死地。諸侯自戰其地者,為散地;入人之地不深者,為輕地;我得亦利,彼得亦利者,為爭地;我可以往,彼可以來者,為交地;諸侯之地三屬,先至而得天下眾者,為衢地;入人之地深,背城邑多者,為重地;山林、險阻、沮澤,凡難行之道者,為泛地;所由入者隘,所從歸者迂,彼寡可以擊吾之眾者,為圍地;疾戰則存,不疾戰則亡者,為死地。
سو منتشر زمین پر مت لڑو، ہلکی زمین پر مت ٹھہرو، متنازع زمین پر [پہل کر کے] حملہ مت کرو، ملاپ کی زمین پر [رابطہ] منقطع مت ہونے دو، چوراہے کی زمین پر اتحاد باندھو، بھاری زمین پر [رسد] لُوٹو، دشوارگزار زمین پر آگے بڑھتے رہو، گھری زمین پر تدبیر کرو، مہلک زمین پر لڑو۔ قدیم زمانے کے ماہرِ جنگ دشمن کو ایسا [منتشر] کر سکتے تھے کہ اُس کا اگلا اور پچھلا حصہ آپس میں نہ ملے، بہت اور تھوڑے ایک دوسرے پر بھروسا نہ کر سکیں، بلند و پست ایک دوسرے کو نہ بچائیں، اوپر اور نیچے والے ایک دوسرے کو نہ سنبھالیں، سپاہی بکھر جائیں اور جمع نہ ہوں، فوج اکٹھی ہو کر بھی یکرنگ نہ ہو۔ فائدے سے میل کھائے تو حرکت کرو، فائدے سے میل نہ کھائے تو رُک جاؤ۔ کوئی پوچھے: دشمن بہت اور مرتّب ہو کر چڑھ آئے تو اُس کا سامنا کیسے کروں؟ کہو: پہلے وہ چھین لو جسے وہ عزیز رکھتا ہے، تب وہ تمہاری بات سنے گا۔
是故散地則無戰,輕地則無止,爭地則無攻,交地則無絕,衢地則合交,重地則掠,泛地則行,圍地則謀,死地則戰。古之善用兵者,能使敵人前後不相及,眾寡不相恃,貴賤不相救,上下不相收,卒離而不集,兵合而不齊。合於利而動,不合於利而止。敢問敵眾而整將來,待之若何曰:先奪其所愛則聽矣。
جنگ کا جوہر تیزی ہے: دشمن کی بےخبری کا فائدہ اُٹھاؤ، غیرمتوقع راہ سے جاؤ، اور وہاں وار کرو جہاں وہ چوکنّا نہیں۔ حملہآور [دشمن کے علاقے میں گھسنے والے] کا دستور یہ ہے کہ گہرے گھسو تو [فوج] یکجا رہتی ہے، اور میزبان [دفاع کرنے والا] پار نہیں پا سکتا۔ زرخیز کھیتوں سے لُوٹو تو تینوں فوجوں کا کھانا کافی رہتا ہے۔ احتیاط سے [فوج کی] پرورش کرو اور تھکاؤ مت، حوصلہ جمع کرو اور قوت ذخیرہ کرو، فوج کو یوں چلاؤ اور تدبیر کرو کہ [دشمن کی] تھاہ میں نہ آئے۔ اُنہیں ایسی جگہ ڈالو جہاں سے کہیں جانا نہ ہو، تو وہ مر جائیں گے مگر بھاگیں گے نہیں۔ جب موت [کے سوا چارہ] نہ ملے، تو سپاہی پوری قوت لگا دیتے ہیں۔ سپاہی سخت پھنس جائیں تو خوف نہیں کھاتے؛ کہیں جانا نہ ہو تو جم جاتے ہیں؛ گہرے گھس جائیں تو بندھ جاتے ہیں؛ چارہ نہ ہو تو لڑتے ہیں۔ سو ایسی فوج بغیر تربیت کے چوکنّی رہتی ہے، بغیر طلب کے [فرمانبرداری] کر لیتی ہے، بغیر عہد کے یکجا ہو جاتی ہے، بغیر حکم کے اعتماد رکھتی ہے؛ شگون بند کرو اور شک دور کرو، تو موت تک وہ کہیں نہ جائیں گے۔ میرے سپاہیوں کے پاس فالتو مال نہیں — اِس لیے نہیں کہ اُنہیں مال ناپسند ہے؛ اُن کی جانیں فالتو نہیں — اِس لیے نہیں کہ اُنہیں زندگی ناپسند ہے۔ جس دن حکم صادر ہوتا ہے، بیٹھے سپاہیوں کے آنسو گریبان بھگو دیتے ہیں، لیٹے ہوؤں کے آنسو ٹھوڑی پر بہہ نکلتے ہیں؛ مگر اُنہیں ایسی جگہ ڈالو جہاں سے کہیں جانا نہ ہو، تو وہ
چُو [专诸] اور
گُوئی [曹刿] کی دلیری دکھاتے ہیں۔
兵之情主速,乘人之不及。由不虞之道,攻其所不戒也。凡為客之道,深入則專。主人不克,掠於饒野,三軍足食。謹養而勿勞,並氣積力,運兵計謀,為不可測。投之無所往,死且不北。死焉不得,士人盡力。兵士甚陷則不懼,無所往則固,深入則拘,不得已則鬥。是故其兵不修而戒,不求而得,不約而親,不令而信,禁祥去疑,至死無所之。吾士無餘財,非惡貨也;無餘命,非惡壽也。令發之日,士卒坐者涕沾襟,偃臥者涕交頤,投之無所往,
諸、劌之勇也。
سو جو جنگ کو خوبی سے برتتا ہے، وہ شُوائیرَن [率然] کی مانند ہے۔ شُوائیرَن
چانگ پہاڑ [常山] کا سانپ ہے: اُس کے سر پر مارو تو دُم پہنچ جاتی ہے، دُم پر مارو تو سر پہنچ جاتا ہے، بیچ میں مارو تو سر اور دُم دونوں پہنچ جاتے ہیں۔ کوئی پوچھے: کیا فوج کو شُوائیرَن کی مانند کیا جا سکتا ہے؟ کہو: ہاں۔
وُو [吳] اور یُوئے [越] کے لوگ ایک دوسرے سے بَیر رکھتے ہیں، مگر جب ایک ہی کشتی میں سوار ہو کر پار اُتریں اور طوفان آ پہنچے، تو وہ یوں ایک دوسرے کو بچاتے ہیں جیسے دایاں اور بایاں ہاتھ۔ سو گھوڑے باندھ دینا اور پہیے [زمین میں] گاڑ دینا کافی بھروسے کے قابل نہیں۔ سب کی دلیری کو ایک کر دینا — یہ انتظام کا اصول ہے؛ سخت اور نرم [زمین] دونوں سے فائدہ اُٹھانا — یہ زمین کا اصول ہے۔ سو جو جنگ کو خوبی سے برتتا ہے، وہ [پوری فوج کو] ایک آدمی کی طرح ہاتھ پکڑ کر چلاتا ہے، کیونکہ اُس کے پاس چارہ نہیں [کہ نہ چلے]۔
故善用兵者,譬如率然。率然者,
常山之蛇也。擊其首則尾至,擊其尾則首至,擊其中則首尾俱至。敢問兵可使如率然乎?曰可。夫
吳人與越人相惡也,當其同舟而濟而遇風,其相救也如左右手。是故方馬埋輪,未足恃也;齊勇如一,政之道也;剛柔皆得,地之理也。故善用兵者,攜手若使一人,不得已也。
سردار کا کام یہ ہے: سکون سے اور گہرائی سے، سیدھی چال سے اور نظم سے۔ وہ سپاہیوں کے کان اور آنکھ کو یوں بھولا رکھ سکتا ہے کہ اُنہیں کچھ خبر نہ ہو؛ اپنے منصوبے بدلتا ہے اور تدبیریں بدلتا ہے، تاکہ کوئی [اُنہیں] نہ پہچانے؛ اپنا ٹھکانا بدلتا ہے اور راہ ٹیڑھی کرتا ہے، تاکہ لوگ [آگے کی] سوچ نہ سکیں۔ سردار جب سپاہیوں سے [معرکے کا] وقت ٹھہراتا ہے، تو گویا اُنہیں اونچائی پر چڑھا کر سیڑھی ہٹا دیتا ہے؛ سردار جب اُن کے ساتھ حکمرانوں کے علاقے میں گہرے گھستا ہے، تو [تیر کی] لبلبی چلا دیتا ہے۔ [فوج کو] یوں ہانکتا ہے جیسے بھیڑوں کا ریوڑ — اِدھر ہانکے، اُدھر ہانکے، اور کوئی نہ جانے کہ کہاں جا رہے ہیں۔ تینوں فوجوں کے مجمع کو جمع کر کے خطرے میں ڈال دینا — یہی سردار کا کام ہے۔ نو زمینوں کی تبدیلیاں، سکڑنے اور پھیلنے کی قوت، انسانی جذبات کے اصول — اِن کا جائزہ لینا ناگزیر ہے۔
將軍之事,靜以幽,正以治,能愚士卒之耳目,使之無知;易其事,革其謀,使人無識;易其居,迂其途,使民不得慮。帥與之期,如登高而去其梯;帥與之深入諸侯之地,而發其機。若驅群羊,驅而往,驅而來,莫知所之。聚三軍之眾,投之於險,此謂將軍之事也。九地之變,屈伸之力,人情之理,不可不察也。
حملہآور کا دستور یہ ہے: گہرے گھسو تو [فوج] یکجا رہتی ہے، اُتھلے رہو تو بکھر جاتی ہے۔ اپنی ریاست چھوڑ کر، سرحد پار کر کے لشکرکشی کرو تو وہ الگتھلگ زمین ہے۔ جہاں چاروں طرف راہیں کھلی ہوں، وہ چوراہے کی زمین ہے۔ گہرے گھس جاؤ تو بھاری زمین؛ اُتھلے رہو تو ہلکی زمین۔ پیٹھ پیچھے استوار [مورچہ] اور سامنے تنگی ہو تو گھری زمین؛ کہیں جانا نہ ہو تو مہلک زمین۔ سو منتشر زمین پر میں [سپاہیوں کے] ارادے کو ایک کروں گا؛ ہلکی زمین پر اُنہیں [ایک دوسرے سے] جوڑے رکھوں گا؛ متنازع زمین پر اُن کے پیچھے کو دوڑاؤں گا؛ ملاپ کی زمین پر اپنے دفاع کی احتیاط کروں گا؛ [ملاپ کی زمین پر] اپنے جوڑ کو استوار رکھوں گا؛ چوراہے کی زمین پر اپنے اتحادوں کی احتیاط کروں گا؛ بھاری زمین پر اپنی رسد جاری رکھوں گا؛ دشوارگزار زمین پر اپنی راہ پر آگے بڑھتا رہوں گا؛ گھری زمین پر اپنے [فرار کے] رخنے بند کروں گا؛ مہلک زمین پر اُن پر ظاہر کروں گا کہ زندہ بچنے کی راہ نہیں۔
凡為客之道,深則專,淺則散。去國越境而師者,絕地也;四徹者,衢地也;入深者,重地也;入淺者,輕地也;背固前隘者,圍地也;無所往者,死地也。是故散地吾將一其志,輕地吾將使之屬,爭地吾將趨其後,交地吾將謹其守,交地吾將固其結,衢地吾將謹其恃,重地吾將繼其食,泛地吾將進其途,圍地吾將塞其闕,死地吾將示之以不活。
سو سپاہیوں کا جوہر یہ ہے: گھر جائیں تو مزاحمت کرتے ہیں، چارہ نہ ہو تو لڑتے ہیں، حد سے گزر جائیں تو فرمانبردار ہو جاتے ہیں۔ سو جو پڑوسی حکمرانوں کی تدبیریں نہیں جانتا، وہ پیشگی اتحاد نہیں باندھ سکتا؛ جو پہاڑ و جنگل، درّے و رکاوٹیں، دلدل و جھیل کی ہیئت نہیں جانتا، وہ فوج نہیں چلا سکتا؛ جو مقامی رہنما نہیں لیتا، وہ زمین کا فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔ اِن [نو زمینوں] میں سے ایک کو بھی نہ جاننا، سرداری فوج کا شیوہ نہیں۔ سرداری فوج جب کسی بڑی ریاست پر یورش کرے، تو اُس [ریاست] کا مجمع اکٹھا نہیں ہو پاتا؛ جب اُس کی ہیبت دشمن پر چھا جائے، تو اُس کے اتحاد نہیں بندھ پاتے۔ سو وہ جہان بھر کے اتحادوں کے لیے کشمکش نہیں کرتی، نہ جہان بھر میں اپنی طاقت کی پرورش کرتی ہے؛ وہ اپنی ذاتی [قوت] پر بھروسا کرتی ہے اور اپنی ہیبت دشمن پر چھا دیتی ہے، سو اُس کے شہر سر کیے جا سکتے ہیں اور اُس کی ریاست ڈھائی جا سکتی ہے۔ ضابطے سے باہر انعام دو، انتظام سے باہر احکام جاری کرو؛ تو تینوں فوجوں کے مجمع کو یوں چلاؤ گے جیسے ایک آدمی کو۔ اُنہیں کام سونپو، مگر [منصوبہ] بتا کر نہیں؛ اُنہیں فائدے سے [نہیں بلکہ] خطرے سے چلاؤ۔ اُنہیں مٹنے کی جگہ ڈالو تو وہ بچ رہتے ہیں؛ مہلک زمین میں گراؤ تو وہ جی اُٹھتے ہیں۔
故兵之情:圍則禦,不得已則鬥,過則從。是故不知諸侯之謀者,不能預交;不知山林、險阻、沮澤之形者,不能行軍;不用鄉導,不能得地利。四五者,一不知,非霸王之兵也。夫霸王之兵,伐大國,則其眾不得聚;威加於敵,則其交不得合。是故不爭天下之交,不養天下之權,信己之私,威加於敵,則其城可拔,其國可隳。施無法之賞,懸無政之令。犯三軍之眾,若使一人。犯之以事,勿告以言;犯之以害,勿告以利。投之亡地然後存,陷之死地然後生。
مجمع خطرے میں گر کر ہی فتح و شکست کا فیصلہ کر پاتا ہے۔ سو جنگ کا معاملہ اِس میں ہے کہ دشمن کے ارادے کے مطابق بظاہر [چلو]، اپنی قوت اُس کے ایک رخ پر جمع کرو، اور ہزار لی [دور کے] سردار کو مار ڈالو: اِسی کو ہنر سے کام سنوارنا کہتے ہیں۔ سو جس دن [مہم کا] فیصلہ ہو، سرحدی گزرگاہیں بند کر دو، اجازتنامے توڑ دو، اُن کے ایلچیوں کو آنے جانے نہ دو، اور دربار میں سختی سے [منصوبے پر] عمل کرو تاکہ معاملہ طے پائے۔ دشمن کوئی دروازہ کھولے تو لازماً فوراً اُس میں گھس جاؤ؛ پہلے وہ چھینو جسے وہ عزیز رکھتا ہے، اور خفیہ اُس کے ساتھ [معرکے کا] وقت ٹھہراؤ۔ کھینچی ہوئی لکیر [منصوبے] پر چلو مگر دشمن کے ساتھ ڈھلتے رہو، تاکہ معرکے کا فیصلہ ہو۔ سو آغاز میں کنواری کی مانند [ساکن] رہو، تو دشمن دروازہ کھول دیتا ہے؛ پھر بھاگتے خرگوش کی مانند [تیز] ہو جاؤ، تو دشمن روک نہیں پاتا۔
夫眾陷於害,然後能為勝敗。故為兵之事,在順詳敵之意,並敵一向,千里殺將,是謂巧能成事。是故政舉之日,夷關折符,無通其使,厲於廊廟之上,以誅其事。敵人開闔,必亟入之,先其所愛,微與之期,踐墨隨敵,以決戰事。是故始如處女,敵人開戶;後如脫兔,敵不及拒。
12 سُون تُزُو نے کہا: آگ سے حملے کی پانچ قسمیں ہیں: پہلی، آدمیوں کو جلانا؛ دوسری، ذخیرے کو جلانا؛ تیسری، سازوسامان کو جلانا؛ چوتھی، اسلحہخانوں کو جلانا؛ پانچویں، رسد کی قطاروں کو جلانا۔ آگ لگانے کے لیے لازماً کوئی وسیلہ چاہیے، اور وسیلہ لازماً پہلے سے تیار ہو۔ آگ لگانے کے [اپنے] وقت ہیں، آگ بھڑکانے کے [اپنے] دن ہیں۔ وقت وہ ہے جب موسم خشک ہو؛ دن وہ ہیں جب چاند جی [箕]، بی [壁]، یی [翼] یا ژَن [軫] برجوں میں ہو۔ یہ چاروں برج وہ دن ہیں جب ہوا اُٹھتی ہے۔ آگ سے ہر حملے میں لازماً پانچ [قسم کی] آگ کی تبدیلیوں کے مطابق جواب دو: اگر آگ [دشمن کے] اندر بھڑکے، تو باہر سے جلد جواب دو؛ اگر آگ بھڑکے مگر دشمن کی فوج پُرسکون رہے، تو انتظار کرو اور حملہ نہ کرو۔ آگ کی قوت انتہا کو پہنچے، تو اگر پیروی ممکن ہو تو پیروی کرو، اگر ممکن نہ ہو تو رُک جاؤ۔ اگر آگ باہر سے لگائی جا سکے، تو اندر [آگ لگنے] کا انتظار مت کرو؛ مناسب وقت پر لگا دو۔ آگ ہوا کے رُخ لگے تو اُس کے مخالف رُخ سے حملہ مت کرو۔ دن کی ہوا دیر تک چلے، رات کی ہوا تھم جاتی ہے۔
孫子曰:凡火攻有五:一曰火人,二曰火積,三曰火輜,四曰火庫,五曰火隊。行火必有因,因必素具。發火有時,起火有日。時者,天之燥也。日者,月在箕、壁、翼、軫也。凡此四宿者,風起之日也。凡火攻,必因五火之變而應之:火發於內,則早應之於外;火發而其兵靜者,待而勿攻,極其火力,可從而從之,不可從則上。火可發於外,無待於內,以時發之,火發上風,無攻下風,晝風久,夜風止。
سو ہر فوج کو پانچ [قسم کی] آگ کی تبدیلیاں جاننی چاہئیں، اور حساب سے اپنی حفاظت کرنی چاہیے۔ سو جو آگ سے حملے کی مدد لے وہ روشن [ذہن] ہے، جو پانی سے حملے کی مدد لے وہ طاقتور۔ پانی [دشمن کو] منقطع کر سکتا ہے، مگر چھین نہیں سکتا۔ لڑائی جیت لینا اور یورش سے [شہر] سر کر لینا، مگر پھر اپنی کامیابی کو سنوار نہ پانا — یہ منحوس ہے، اِسے ”ضائع رہنا“ [费留] کہتے ہیں۔ سو کہا گیا: روشنذہن حاکم اِس پر غور کرتا ہے، اور اچھا سردار اِسے سنوارتا ہے۔ فائدے کے بغیر حرکت مت کرو، حاصل کے بغیر [قوت] مت لگاؤ، خطرے کے بغیر مت لڑو۔ حاکم غصے میں آ کر فوج نہ اُٹھائے، سردار جھنجھلا کر لڑائی نہ چھیڑے۔ فائدے سے میل کھائے تو حرکت کرو، فائدے سے میل نہ کھائے تو رُک جاؤ۔ غصہ پھر خوشی میں بدل سکتا ہے، جھنجھلاہٹ پھر مسرت میں؛ مگر مٹی ہوئی ریاست پھر قائم نہیں ہو سکتی، اور مُردے پھر جی نہیں سکتے۔
凡軍必知五火之變,以數守之。故以火佐攻者明,以水佐攻者強。水可以絕,不可以奪。夫戰勝攻取而不惰其功者凶,命曰“費留”。故曰:明主慮之,良將惰之,非利不動,非得不用,非危不戰。主不可以怒而興師,將不可以慍而攻戰。合於利而動,不合於利而上。怒可以複喜,慍可以複說,亡國不可以複存,死者不可以複生。
سو روشنذہن حاکم [اِس بارے میں] محتاط رہتا ہے، اور اچھا سردار چوکنّا۔ یہی ریاست کو محفوظ اور فوج کو سالم رکھنے کی راہ ہے۔
故明主慎之,良將警之。此安國全軍之道也。
13 سُون تُزُو نے کہا: جب ایک لاکھ کی فوج اُٹھائی جائے اور ہزار لی کی مہم پر نکلی جائے، تو رعایا کے مصارف اور حکومت کے اخراجات روزانہ ایک ہزار سونے کے سکے ہیں۔ اندر اور باہر ہلچل مچ جاتی ہے، لوگ راہوں پر تھک ہار جاتے ہیں، اور سات لاکھ گھرانے اپنے کام سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ کئی برس ایک دوسرے کے مقابل ڈٹے رہنا، محض ایک دن کی فتح کی خاطر — اور پھر منصب و مال اور سو سونے کے سکوں کی [کنجوسی کے سبب] دشمن کے حالات نہ جاننا، یہ سراسر بےمروّتی ہے: ایسا [سردار] نہ عوام کا سردار ہے، نہ حاکم کا مددگار، نہ فتح کا مالک۔ سو روشنذہن بادشاہ اور دانا سردار حرکت کرتے ہی دشمن پر فتح پاتے ہیں، اور اُن کی کامیابی عام لوگوں سے بڑھ کر اِس لیے ہوتی ہے کہ وہ پیشگی علم رکھتے ہیں۔ پیشگی علم نہ دیوتاؤں اور روحوں سے حاصل ہو سکتا ہے، نہ [ماضی کے] واقعات سے قیاس کیا جا سکتا ہے، نہ ستاروں کے حساب سے جانچا جا سکتا ہے؛ اِسے لازماً آدمیوں سے حاصل کرو — اُن سے جو دشمن کے حالات جانتے ہیں۔
孫子曰:凡興師十萬,出征千里,百姓之費,公家之奉,日費千金,內外騷動,怠於道路,不得操事者,七十萬家。相守數年,以爭一日之勝,而愛爵祿百金,不知敵之情者,不仁之至也,非民之將也,非主之佐也,非勝之主也。故明君賢將所以動而勝人,成功出於眾者,先知也。先知者,不可取於鬼神,不可象於事,不可驗於度,必取於人,知敵之情者也。
سو جاسوسوں کے پانچ [قسم کے] استعمال ہیں: مقامی جاسوس، اندرونی جاسوس، دُہرے جاسوس، مُردہ جاسوس، اور زندہ جاسوس۔ جب پانچوں جاسوس یکجا کام کریں اور کوئی اُن کی راہ نہ جانے، اِسے دیوتائی تانابانا کہتے ہیں — یہی حاکم کا خزانہ ہے۔ مقامی جاسوس دشمن کے علاقے کے لوگوں کو کام میں لا کر [بنایا جاتا ہے]؛ اندرونی جاسوس دشمن کے عہدےداروں کو کام میں لا کر؛ دُہرا جاسوس دشمن کے [اپنے] جاسوسوں کو کام میں لا کر؛ مُردہ جاسوس باہر جھوٹی خبریں پھیلا کر [بنایا جاتا ہے]، تاکہ میرے [اپنے] جاسوس اُنہیں جان لیں اور دشمن کے جاسوسوں تک پہنچا دیں؛ زندہ جاسوس وہ ہے جو لوٹ کر خبر لاتا ہے۔ سو تینوں فوجوں کے معاملات میں جاسوس سے زیادہ کوئی قریب نہیں، انعام جاسوس سے زیادہ کسی کا نہیں، اور معاملہ جاسوس سے زیادہ کوئی خفیہ نہیں۔ جو دانا و بزرگ نہ ہو وہ جاسوس کو کام میں نہیں لا سکتا، جو رحم دل و منصف نہ ہو وہ جاسوس سے کام نہیں لے سکتا، اور جو باریک بین و نکتہ رس نہ ہو وہ جاسوس کی خبر کی حقیقت نہیں پا سکتا۔ کیا باریک، کیا باریک! کوئی معاملہ ایسا نہیں جہاں جاسوس کام نہ آئے۔ جاسوسی کا معاملہ ظاہر ہونے سے پہلے ہی افشا ہو جائے، تو جاسوس اور جس نے [راز] بتایا، دونوں مار دیے جاتے ہیں۔
故用間有五:有因間,有內間,有反間,有死間,有生間。五間俱起,莫知其道,是謂神紀,人君之寶也。鄉間者,因其鄉人而用之;內間者,因其官人而用之;反間者,因其敵間而用之;死間者,為誑事於外,令吾聞知之而傳於敵間也;生間者,反報也。故三軍之事,莫親於間,賞莫厚於間,事莫密於間,非聖賢不能用間,非仁義不能使間,非微妙不能得間之實。微哉微哉!無所不用間也。間事未發而先聞者,間與所告者兼死。
جس فوج پر وار کرنا ہو، جس شہر پر یورش کرنا ہو، جس آدمی کو مارنا ہو — لازماً پہلے اُس کے محافظ سردار، اُس کے مصاحبوں، پیغامرسانوں، دربانوں اور خادموں کے نام جان لو، اور اپنے جاسوس کو لازماً حکم دو کہ یہ سب کھوج نکالے۔ دشمن کا جو جاسوس میری جاسوسی کو آئے، اُسے [مال کا] لالچ دو، رستہ دکھاؤ اور رہائش دو، تو دُہرا جاسوس ہاتھ آ کر کام میں لایا جا سکتا ہے۔ اِسی [دُہرے جاسوس] سے [حالات] جان کر مقامی اور اندرونی جاسوس کام میں لائے جا سکتے ہیں۔ اِسی سے جان کر مُردہ جاسوس جھوٹی خبریں پھیلا کر دشمن تک پہنچانے پر لگایا جا سکتا ہے۔ اِسی سے جان کر زندہ جاسوس مقررہ وقت پر [لوٹنے کے کام پر] لگایا جا سکتا ہے۔ پانچوں قسم کی جاسوسی حاکم کو لازماً معلوم ہونی چاہیے، اور یہ علم لازماً دُہرے جاسوس پر منحصر ہے — سو دُہرے جاسوس سے فیاضی کرنا ناگزیر ہے۔ قدیم زمانے میں جب
یِن [殷] کا عروج ہوا، تو
یی جی [伊摯]
شیا [夏] میں تھا؛ اور جب
ژُو [周] کا عروج ہوا، تو
لیو یا [呂牙] یِن میں تھا۔
凡軍之所欲擊,城之所欲攻,人之所欲殺,必先知其守將、左右、謁者、門者、舍人之姓名,令吾間必索知之。敵間之來間我者,因而利之,導而舍之,故反間可得而用也;因是而知之,故鄉間、內間可得而使也;因是而知之,故死間為誑事,可使告敵;因是而知之,故生間可使如期。五間之事,主必知之,知之必在於反間,故反間不可不厚也。昔
殷之興也,
伊摯在
夏;
周之興也,
呂牙在殷。
سو روشنذہن بادشاہ اور دانا سردار، جو اعلیٰترین دانائی کے [حامل افراد] کو جاسوس بنا سکیں، لازماً عظیم کامیابی پاتے ہیں۔ یہی جنگ کا جوہر ہے، اور یہی وہ [ستون] ہے جس کے بھروسے تینوں فوجیں حرکت کرتی ہیں۔
故明君賢將,能以上智為間者,必成大功。此兵之要,三軍之所恃而動也。